ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کسانوں کے مسائل پر بحث کیلئے لیجسلیچر اجلاس طلب کرنے کی مانگ

کسانوں کے مسائل پر بحث کیلئے لیجسلیچر اجلاس طلب کرنے کی مانگ

Sat, 29 Jul 2017 10:43:05    S.O. News Service

بنگلورو۔28؍ جولائی(ایس او نیوز) ریاستی رعیت سنگھا کے صدر اور رکن اسمبلی کے ایس پٹنیا نے ریاست میں خشک سالی کی سنگین صورتحال سے نمٹنے کیلئے ریاستی حکومت کو حکمت عملی وضع کرنے کے مقصد سے خصوصی لیجسلیچر اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔آج ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 1959 میں ریاست کو ایسی ہی سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس سال بارش کی قلت کے سبب لاکھوں مویشیوں کی موت ہوگئی تھی۔ آج کسان اور دیگر چرواہا طبقہ پانی کی قلت کے سبب اپنے مویشیوں کی دیکھ بھال کر نہیں پارہا ہے۔ اس طبقہ کی مدد کیلئے حکومت کو ٹھوس قدم اٹھانے ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ دونوں مراحل میں مانسون ریاست میں ناکام ہوچکا ہے، اور یہ اندیشہ ظاہر کیاجارہاہے کہ خشک سالی کی صورتحال آنے والے دنوں میں اور بھی سنگین ہوسکتی ہے۔اس کیلئے حکومت کو ابھی سے مستعد ہوجانا چاہئے۔سرکاری افسران اور وزراء کو اپنے ایر کنڈیشنڈ کمروں سے باہر نکل کر حقائق کاجائزہ لینا ہوگا، کسانوں سے تبادلۂ خیال کرکے ان کی مشکلات کو سمجھ کر صورتحال سے نمٹنے کیلئے ٹھوس پہل کی جانی چاہئے۔پٹنیا نے کہا کہ انہوں نے ریاست کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہے، دورہ کے دوران پایا کہ مختلف گؤ شالاؤں میں مویشی مناسب چارہ اور پانی نہ ہونے کے سبب فاقہ کشی کرکے مررہے ہیں ، ریاستی حکومت نے ایسے مویشیوں کی دیکھ بھال کیلئے اپنے طور پر جن گؤ شالاؤں کا قیام کیا ہے ان تمام گؤ شالاؤں میں جانوروں کی دیکھ بھال ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ کاویری طاس کے تمام آبی ذخیرہ پوری طرح خالی ہوچکے ہیں، یہاں پر 18.6لاکھ ہیکٹر زمین پر کاشتکاری ہوئی ہے، لیکن بارش نہ ہونے کے سبب اس میں پیش رفت نہیں ہوپائی ہے۔ انہوں نے کہاکہ باگلکوٹ ضلع میں خشک سالی کے سبب سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔فوری طور پر حکومت مناسب طور پر اس ضلع کے علاوہ ریاست بھر میں خشک سالی سے نمٹنے کیلئے ٹھوس قدم اٹھائے اور مرکزی حکومت کی طرف سے کسانوں کو مہیا کرانے کیلئے جو بھی امداد دی گئی ہے وہ ان کے کھاتوں میں جمع کرائی جائے۔


Share: